10- خلافت
حضرت عمر کی شہادت کے بعد شوری کے فیصلے کے مطابق حضرت عثمان فنی ، مسند خلافت پر فائز ہوئے ۔ حضرت عمر ، اسلامی ریاست کے نظم و نسق اور طریقہ حکمرانی کو ایسے ٹھوس اصولوں پر ڈال گئے تھے کہ آپ کے لیے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ ایک سال تک وہی نظم و نسق چلتا رہا آپ نے صرف ایک تبدیلی کی اور وہ یہ کہ سعد بن ابی وقاص ، کو مغیرہ بن شعبہ کی جگہ کوفہ کا والی بنا کر بھیجا۔
حضرت عثمان کا دور خلافت بارہ سال پر محیط ہے۔ آپ لے کے ابتدائی چھ سال امن و امان سے گذرے۔ فتوحات کی وسعت مال قیمت کی فراوانی وظائف میں اضافہ زراعت اور صنعت و تجارت کی ترقی اور حکومت کے عمدہ نظم ونسق نے تمام ملک میں خوشحالی کو عام کر دیا۔ لیکن آہستہ آہستہ حالات خراب ہونے شروع ہوئے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بنوامیہ کا قبیلہ ہمیشہ سے جرات و بہادری اور نظم و نسق کی مہارت میں مصروف تھا۔ عرب میں اگر بنو ہاشم سے برابری کا کوئی دعوے دار تھا تو یہی قبیلہ تھا۔ عہد فاروقی میں بھی بنوامیہ کے کئی افراد سرکاری عہدوں پر تھے لیکن ایک تو حضرت عمر اللہ ان کے قبیلے سے نہیں تھے اس لیے کوئی قابل اعتراض بات نہ تھی دوسرے حضرت عمر اللہ کے رعب اور دبدبے کی وجہ سے کسی کو کوئی گڑبڑ کرنے کا حوصلہ نہ تھا۔
حضرت عثمان نے کچھ تو بنوامیہ کے بعض نئے لوگوں کو سرکاری عہدے دیئے اور کچھ افراد کے دائرہ اختیار میں اضافہ کر دیا۔ مزید یہ کہ حضرت عثمان طبعاً نرم مزاج تھے اور بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے نئے عہدے دار انتظام کا وہ بلند معیار برقرار نہ رکھ سکے تھے جو حضرت عمر د کے دور کا طرہ امتیاز تھا۔حالات کے خراب ہونے کے کچھ اور اسباب تھے مثلاً :
1
صحابہ کرام کی وہ نسل جس نے براہ راست رسول اللہ ﷺ سے تربیت حاصل کی تھی، ختم ہو چکی تھی۔ جو لوگ زندہ تھے وہ بڑھاپے کی وجہ سے عملی زندگی سے کنا روکش ہو گئے تھے ان کی جگہ ان کی اولاد لے رہی تھی جو اپنے اسلاف کا لیکی تقویٰ امانت و دیانت اور عدل و انصاف کا معیار برقرار نہیں رکھتے سکی۔
2
اسلام کی حکومت قریش کی بدولت قائم ہوئی تھی اس لیے بڑے بڑے مناصب پر وہی فائز تھے دوسری قو میں جو بعد میں شریک ہوئیں ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت میں ان کو بھی قریشیوں جتنا حق ملنا چاہیے جب کہ قریشی نوجوان دوسروں کو کم تر سمجھتے تھے۔
3
اسلام کی حکومت کابل سے مراکش تک پھیلی ہوئی تھی جس میں محکوم قو میں آباد تھیں۔ قدرتی طور پر ان محکوم قوموں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف انتقام کا جذبہ تھا لیکن مسلمانوں کے مقابلے میں بے بس تھے انہوں نے سازش کا جال بچھایا جس میں مجوسی اور یہودی پیش پیش تھے۔
4
ایرانی مجوسی یہ چاہتے تھے کہ حکومت ایسے خاندانوں میں منتقل ہو جائے جن سے زیادہ مراعات حاصل کر سکیں۔
10.1 عبد اللہ بن سبا کا فتنہ
ان حالات سے ایک نو مسلم یہودی نے جو دراصل منافق تھا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اس کا نام عبد اللہ بن سبا تھا۔ اس نے اپنی خفیہ تنظیم کا سارے ملک میں جال پھیلا دیا۔ بظاہر اس تنظیم کے ممبر لوگوں کو دین کی دعوت دیتے لیکن اس کے ساتھ ہی حضرت عثمان منی کے خلاف کنبہ پروری اور اقربا نوازی کی داستانیں مشہور کرتے اور حضرت عثمان کے عمال کو ہر ممکن طریقے سے بدنام کرتے ۔ اس پرو پیگنڈے سے کئی مخلص مسلمان بھی متاثر ہو گئے۔10.2 شہادت
حضرت عثمان تعنی اللہ نے ان حالات میں اصلاح احوال کی بھر پور کوشش کی۔ تحقیقاتی کمیشن قائم کیا ۔ عمال کو بلا کر ان سے تجاویز لیں لیکن سازشیوں کا اصل مقصد حضرت عثمان غنی کے کو معزول کرانا تھا اس لیے سازشیوں نے کوفہ بصرہ اور مصر سے اپنے حامیوں کو اکٹھا کر کے 34 ہجری میں مدینہ پر یورش کر دی۔ بعض صحابہ کرام کی کوششوں سے فسادی واپس جانے کے لیے تیار ہو گئے لیکن پھر راستے سے واپس آگئے اور حضرت عثمان غنی دیتا ہے کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔
اس وقت مدینہ منورہ کے حالات نہایت خطرناک ہو رہے تھے۔ باغی کسی کے قابو میں نہ تھے اور ہر شخص کی جان خطرے میں تھی ۔ صحابہ کرام بیٹھے بے بس اور مجبور تھے۔ حضرت عثمان فنی کسی حالت میں طاقت کے استعمال کی اجازت نہ دیتے تھے۔ آخر 18 ذو الحجہ 35 انجری کو حضرت عثمان غنی وے کو روزے کی حالت میں قرآن حکیم کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔
حضرت عثمان ، کی شہادت سے امت مسلمہ میں فتنہ و فساد کا ایک ایسا دروازہ کھل گیا جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ مسلمان جو ایک امت ہیں، ایک اللہ ایک نبی اور ایک کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ ایک قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں، مختلف فرقوں میں بٹ گئے اور ہر فرقہ دوسرے کے خون کا پیاسا ہو گیا۔