12- خلافت
حضرت عثمان غنی کی شہادت کے تین دن بعد مسند خلافت خالی رہی۔ چوتھے دن مدینہ منورہ کے اکابر صحابہ کرام مہاجرین اور انصار نے حضرت علی اے کو مجبور کیا کہ وہ خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔ انہوں نے خلافت کی ذمہ داری قبول کر لی اس وقت حالات کافی خراب ہو چکے تھے اور مدینے میں سبائیوں کا غلبہ تھا۔
12.1 قاتلین عثمان کی تلاش خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد حضرت علی مرتضی ان کے سامنے سب سے اہم مسئلہ حضرت عثمان کے قاتلوں کو تلاش کر کے ان کو سزا دینا تھا۔ حضرت عثمان نی گھر کے اندر شہید ہوئے تھے جہاں صرف ان کی اہلیہ نائکہ تھیں جو پردہ دار خاتون ہونے کی وجہ سے قاتلوں کو پہچانتی نہ تھی۔ پھر قاتل جس گروہ سے تعلق رکھتے تھے ان پر کسی کا قابو نہ تھا۔ وہ جماعت جس میں حضرت عثمان غنی ہی کے قاتل شامل تھے انہوں نے حضرت علی ہے کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اپنے آپ کو حضرت علی مرتضی سے کا زبردست حامی ظاہر کرنا شروع کر دیا۔
ان حالات میں قصاص لینا آسان نہیں تھا دوسری طرف اکابر صحابہ کرام نے اپنے طور پر اس جماعت سے قصاص لینے کا ارادہ کیا۔12.2 امیر معاویہ کی معزولی اور بغاوت حضرت علی مرتضی اللہ عثمانی عید کے اکثر عمال کو بالخصوص حضرت معاویہ خلا کو پسند نہیں کرتے تھے۔ آپ کے خیال میں انہی عمال کی کوتاہیوں کی وجہ سے فسادیوں کو حضرت عثمان تمنی لے کے خلاف فتنہ بر پا کرنے کا موقع ملا۔ چنانچہ آپ نے فورا ان سب کو معزول کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ اگر چہ آپ کے علم و تقوی کے تقاضوں کے مطابق تھا لیکن اس کے سیاسی اثرات نے عالم اسلام کو مترتزل کر دیا۔
امیر معاویہ اللہ جو اویل سے سے شام کے بہت بڑے اور طاقتور صوبے کے انتہائی طاقتور گورنر چلے آئے تھے انہوں نے حضرت علی مرتضی اللہ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور قصاص عثمان معنی ہیں کا دعوی لے کر مقابلے کی تیاریاں کرتے لگے۔
حضرت علی مرتضی ہے تو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے بھی مقابلے کے لیے صحابہ کرام سے مشورہ کیا لیکن بڑے بڑے صحابہ کرام نے مسلمانوں کی آپس کی لڑائی میں شریک ہونے سے معذرت کر دی۔
12.3 جنگ جمل جب حضرت عثمان منی سے شہید ہوئے اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاج کے لیے مکہ معظمہ میں تھیں انہیں اس ناحق خون کا بہت صدمہ اور ساتھ ہی انہیں معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ میں شدید افراتفری ہے۔
انہوں نے حضرت عثمان منی لے کے قصاص کی بات کی۔ چنانچہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کے خواہش مند افراد کو قیادت میسر آگئی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بصرہ جانے کے لیے آمادہ کر لیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بنوامیہ کی ایک جماعت شامل ہوگئی جن کے اقتدار کو حضرت علی عید کی خلافت سے خطرہ تھا اور حضرت علی ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آمادگی کے باوجود ان شرانگیز گروہوں نے اچانک جنگ شروع کر دی اور دیر تک مسلمانوں کے دو گروہوں میں جنگ ہوتی رہی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اتی جنگ میں اونٹ پر سوار تھیں۔ عربی میں اونٹ کو مل کہتے ہیں اس لیے اس کا نام جنگ جمل میر کیا۔آخر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ زخمی ہو کر بیٹھ گیا تو ان کے ساتھ جو فوج تھی اس کی ہمت جواب دے گئی اور حضرت علی کے حق میں جنگ کا فیصلہ ہو گیا۔
جنگ ختم ہونے کے بعد حضرت علی مرتضی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو انتہائی عزت و احترام سے مدینہ منورہ بھیج دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس جنگ پر ہمیشہ افسوس کرتیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ کاش میں ہیں سال پہلے ہی دنیا سے اٹھ گئی ہوتی۔
12.4 امیر معاویہ کو بیعت کی دعوت اور جنگ صفین حضرت علی نے جنگ جمل کے بعد کوفہ کو دارالحکومت قرار دیا۔ حضرت عثمان معنی اے کی شہادت کے موقع پر جس طرح مدینہ منورہ کی بے حرمتی ہوئی تھی اور ملک میں جو افراتفری تھی اس کے پیش نظر حضرت علی ہے یہ نہیں چاہتے تھے کہ پھر مدینہ منورہ میں کوئی ایسا واقعہ ہو اس لیے آپ نے مستقل طور پر کوفہ کو دارالخلافہ قرار دے
حضرت علی اللہ نے کوفہ آنے کے بعد نئے سرے سے ملک کا نظم و نسق قائم کیا عمال کا تقرر کیا اور امیر معاویہ کو بیعت کی دعوت دی۔ امیر معاویہ نے بیعت کرنے کے بجائے اپنے قابل اعتماد لوگوں کے ذریعے شام میں یہ مہم شروع کی کہ حضرت عثمان غنی کی شہادت میں حضرت علی اللہ کا ہاتھ ہے۔ بنو امیہ نے اس مہم کو آگے بڑھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے حضرت علی ہے کے مقابلے کے لیے بھاری جمعیت اکٹھی کرلی۔
امیر معاویہ نے حضرت عثمان غنی اللہ کی شہادت کو اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنایا اور فوج لے کر حضرت علی کے مقابلے میں نکل آئے۔ ناچار حضرت علی مرتضی للہ اسی ہزار مسلمانوں کے ساتھ شام کی طرف بڑھے۔ اس دوران میں کئی مخلص مسلمانوں نے صلح کی کوششیں کیں لیکن یہ کوششیں ناکام ہو گئیں۔ آخر شدید خونریز معر کے شروع ہو گئے جن میں کم و بیش پینتالیس ہزار شامی اور پچیس ہزار عراقی کام آئے۔ یہ جنگ کافی ۶ مه تک جاری رہی ۔ چونکہ دونوں طرف سے اہل ایمان تھے اور ایک دوسرے کے خلاف دل سے لڑتا نہیںچاہتے تھے اس لیے جنگ کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا تھا۔ دونوں فریق آمنے سامنے محاذ پر رہتے تھے اور بغیر کچھ کئے پورا دن گزارتے تھے۔
امیر معاویہ نے اس دوران میں ایک نیا فارمولا پیش کیا کہ دونوں طرف سے ایک ایک ثالث مقرر کیا جائے اور ان کا فیصلہ مان لیا جائے چنانچہ ثالث مقرر ہو گئے ۔ ثالثوں نے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت علی اے اور امیر معاویہ سے دونوں کو معزول کر کے مسلمانوں سے کہا جائے کہ کسی تیسرے شخص کو خلیفہ بنا لیں لیکن فیصلے کے اعلان کے وقت جب حضرت علی طلاء کے نمائندے نے انہیں معزول کرنے کا اعلان کر دیا تو حاضرین میں بھگڈر بچ گئی اور اسی طرح سارا مجتمع فیصلہ سنے بغیر برخاست ہو گیا۔
اس کے بعد امیر معاویہ سے مسلسل حضرت علی ہے کی مقبوضات پر قبضہ کرنے کے لیے فوج کشی کرتے رہے اور اسلامی سلطنت کے بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ آخر 40 ہجری میں اس بنیاد پر مصالحت ہوگئی کر حجاز عراق اور مشرق کا پورا علاقہ حضرت علی ہے کے پاس رہے گا اور شام مصر اور مغرب کا حصہ امیر معاویہ اللہ کے
12.5 شہادت 40 ہجری میں صبح کی نماز کے لیے جاتے ہوئے ایک خارجی ابن ملجم نے آپ ﷺ پر حملہ کر دیا جس سے آپ شدید زخمی ہوئے اور 21 رمضان 4 ہجری کو آپ کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر تریسٹھ برس تھی۔
حضرت علی ہے کا سارا زمانہ خلافت جنگوں اور فتنہ و فساد کی نذر ہو گیا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ لوگوں کو حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق بھر کے دور کے مطابق چلانا چاہتے تھے جب کہ دواستے کی فراوانی اور خوشحالی نیز عمال کی بے اعتدالیوں نے لوگوں کو ایک مختلف طرز زندگی کا عادی بنا دیا تھا۔ اس کے علاوہ آپ کے جو جو گر دو تھا وہ نہ تو مد بر تھا اور نہ آپ کا وفادار - الابہ لوگوں نے آپ پر ایسے فیصلے کروانے کے لیے دباؤ ڈالاجو تدبر و دانش کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ تھے۔ اس کے برعکس امیر معاویہ اللہ نے عرب کے مشہور دانش مند افراد کو اپنے گرد جمع کر لیا تھا اور شامی اپنی اطاعت شعاری میں بے مثال تھے۔
اسلامی تاریخ میں یہ افسوس ناک امر ہے کہ حضرت علی ، جن کی دانش، مشورے اور رائے پر حضرت عمر فاروق ، ایسا شخص اعتماد کرتا تھا جب خود خلیفہ بنے تو ان کو ایسے مشیر ملے جو منصب مشاورت کے اہل نہ تھے۔ دوسری طرف امیر معاویہ نے از خود عثمان غنی ، کے وارث بن گئے اور اس کے سہارے اپنی حکومت قائم کر لی لیکن قاتلین عثمان سے قصاص کا معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔