9- حضرت عثمان عنی رضی

9.1 نام و نسب آپ کا نام عثمان اور آپ کے والد کا نام عفان تھا۔ آپ قریش کی مشہور شاخ بنوامیہ میں سے تھے۔آپ کی شادی یکے بعد دیگرے رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے ہوئی اس لیے آپ ذوالنورین (دونوروں والا) کے لقب سے مشہور ہوئے۔

9.2 قبول اسلام بعثت نبوی کے وقت آپ کی عمر چونتیس سال تھی۔ آپ کا ذریعہ معاش تجارت تھا۔ قریش کے دولت مند لوگوں میں سے تھے اس لیے غنی" کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔ کاروباری روابط کے باعث حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ آپ کا دوستانہ تعلق تھا۔ حضرت صدیا حضرت صدیق اکبر کی تبلیغ نے انہیں اسلام کی طرف مائل کیا اور اسلام کے ابتدائی ایام میں آپ نے اسلام قبول کر لیا۔ رسول اکرم ﷺ نے اپنی مچھلی صاحب زادی حضرت رقیہ کا عقدان کے ساتھ کر دیا۔9.3 ہجرت حبشہ حضرت عثمان کا خاندان یعنی بنوامیہ اسلام کا بدترین دشمن تھا اور وہ لوگ غریب مسلمانوں پر بالخصوص بے پناہ مظالم ڈھاتے تھے۔حضرت عثمان سے کو بھی اپنے چچا حکم کے ہاتھوں شدید اذیتیں برداشت کرنا پڑیں۔ پھر آپ اپنی اہلیہ کو لے کر حبشہ ہجرت کر گئے ۔ چند سال کے بعد مشہور ہو گیا کہ سکے والے مسلمان ہو گئے ہیں تو واپس آگئے یہاں آ کر معلوم ہوا کہ خبر غلام تھی لیکن پھر یہیں رہ گئے ۔ بعد میں جب ہجرت مدینہ کا سلسلہ شروع ہوا تو مدینہ منورہ چلے گئے۔

9.4 بئر رومہ کی خریداری حضرت عثمان نہایت دولت مند تھے۔ ان کی دولت سے اسلام اور مسلمانوں کو بڑا فائدہ پہنچا۔ جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ گئے تو وہاں میٹھے پانی کا صرف ایک کنواں تھا جو ایک یہودی کی ملکیت تھا اور وہ مہنگے داموں پانی فروخت کرتا تھا جس سے غریب مسلمانوں کو پانی کی سخت تکلیف تھی۔ حضرت عثمان نے بڑی کوشش کر کے نصف کنواں بارہ ہزار درہم میں اس شرط پر خرید لیا کہ ایک دن حضرت عثمان ہونے کی باری ہو گی اور دوسرے دن کا پانی یہودی کے لیے مخصوص ہو گا۔ حضرت عثمان ﷺ نے اپنی باری کے دن کا پانی مسلمانوں کے لیے مفت کر دیا۔ لوگ دو دن کے لیے پانی بھر لیتے ، اس طرح یہودی کا کاروبار ٹھپ ہو گیا اس نے باقی حصہ بھی آٹھ ہزار میں فروخت کر دیا اور یہ کنواں حضرت عثمان اے نے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔

9.5 عہد نبوی ﷺ کے مدنی دور میں حضرت عثمان ، اگر چہ سپاہیانہ مزاج نہیں رکھتے تھے تاہم غزوہ بدر کے علاوہ تمام غزوات میں شریک رہے۔ بدر کے موقع پر آپ کی اہلیہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا شدید بیمار تھیں اس لیے رسول اکرم ﷺ آپ کو ان کی تیمارداری کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ جب بدر کی فتح کی خوشخبری مدینہ منورہ پہنچتی تو حضرت عثمان ، حضرت رقیہ کی تدفین میں مصروف تھے۔ حضرت عثمان نبی اکرم ﷺ سے قرابت داری ختم ہونے کی وجہ سے بہت اداس تھے کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے ان کا نکاح کر دیا۔ ہدیبیہ کے موقع پر حضور اکرم ﷺ نے حضرت عثمان بلے کو اپنا سفیر بنا کر مکہ معظمہ بھیجا۔ بعد میں مشہور ہو گیا کہ انہیں شہید کر دیا گیا آپ ﷺ نے حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے تمام صحابہ کرام سے بیعت لی جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔

9.6 غزوہ تبوک میں شرکت اوپر آپ پڑھ چکے ہیں کہ 9 ہجری میں قیصر روم کے مقابلے کے لیے رسول اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا۔ یہ بہت تکلی کا زمانہ تھا۔ دور دراز کا سفر تھا اس لیے آپ ﷺ نے تمام مسلمانوں سے چندے کی اپیل کی تاکہ جنگی ضروریات پوری کی جاسکیں ۔ غزوہ تبوک کی مہم میں تمیں ہزار پیادے اور دس ہزار سوار تھے۔ اس فوج میں سے ایک تہائی کے تمام اخراجات اور جنگی ساز و سامان حضرت عثمان ، نے خرید کر دیا۔ اس کے علاوہ ایک ہزار اونٹ استر گھوڑے اور سامان رسد کے لیے ایک ہزار دینار پیش کیے۔ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق 30 کے خلافت کے دور میں حضرت عثمان غنی شوری کے اہم رکن رہے اور دونوں خلفاء کو آپ کا بھر پور تعاون حاصل رہا۔

PlantUML Diagram