2- تقوی 2.1 مفہوم تقوی کا مطلب ہے ڈرتا بچنا یعنی کسی صاحب اختیار سے اس کے نفع یا نقصان پہنچانے کی طاقت کی وجہ سے ڈرنا۔ اصطلاح میں تقوی سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نارانگی کا خوف یعنی ہر کام کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی مرضی کا خیال رکھا جائے اور ہر وہ کام جس سے اللہ تعالیٰ کی نارانگی کا خوف ہو اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ تقومی کے مفہوم کو دو صحابہ کرام کے درمیان ہونے والی گفتگو سے زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ حضرت عمر فاروق نے حضرت کعب سے پوچھا کہ تقوی کسے کہتے ہیں :۔ انہوں نے کہا: کیا آپ بھی خاردار جھاڑیوں والے راستے سے گذرے ہیں؟" حضرت عمر نے فرمایا: "ہاں" حضرت کعب نے پوچھا کہ آپ جھاڑیوں سے کیسے گزرتے ہیں ؟۔ حضرت عمر فاروق نے جواب دیا کہ میں اپنے کپڑے سمیٹ کر احتیاط سے گذرتا ہوں تا کہ مولی کا نا مجھے کیے جاتے ہیں حضرت کعب نے فرمایا کہ:اس کا نام تقوی ہے یعنی یہ دنیا ایک خاردار جنگل ہے۔ اس میں گناہوں کے کانٹے ہیں۔ اس جنگل میں انسان کا اس طرح گذرتا کہ وہ گناہوں سے پاک رہے تقویٰ کہلاتا 2.2 اہمیت تعالی کی بولانس تقوی اختیار کرتا ہے اسے متلی یعنی پر ہیز گار کہتے ہیں۔ تقویٰ سے انسان کے دل میں اللہ یر اہل اس کی بادشاہت اور عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اسے اللہ تعالی کے سامنے جواب دہ ہونے کا خوف ہوتا ہے اور ہر لمحہ وہ اسی فکر میں رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے ؟ اس لیے میں کوئی ایسا کام نہ کروں جو اس ی تارانگی کا سبب س لیے وہ صرف حرام چیزوں سے ہی نہیں بچتا بلکہ ایسی تمام چیزوں کو بھی چھوڑ دیتا ہے جن کے بارے میں شک ہو کہ یہ گناہ کے کام ہیں ۔ 2.3 تقوی کے درجات تقوی کے تین درجات ہیں : -1 ادقی -2 اوسط -3 1- اونی : اوئی درجے کا تقوی ایمان ہے جو دوزخ کی آگ سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ 2- اوسط: اوسط درجے کا تقوی یہ ہے کہ بڑے گناہوں سے پوری طرح بچا جائے اور عام گناہ کے کاموں میں بھی جہاں تک ہو سکتے بچنے کی کوشش ہو۔-3- اعلی اعلی درجے کا تقویٰ یہ ہے کہ یہ اس کام سے پر ہیز کیا جائے جو انسان کے دل کو اللہ تعالی کی یادے نافل کردے اللہ تعالی کے خاص بندے اس درجے کو حاصل کرتے ہیں۔ 2.4 عبادات کی روح ہم اپنے رب کے حضور جو بھی عبادتیں کرتے ہیں ان میں بھی تقوی کا ہونا ضروری ہے۔ ہر عبادت کا مقصد بھی یہی ہے سورۃ البقرہ میں ارشاد ہوا: اے لوگو! اپنے اس پر وردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ (البقرة 21) ہماری نماز میں جب تک یہ کیفیت موجود نہ ہو اس وقت تک اس میں عاجزی نہیں آسکتی۔ اسی طرحروزے میں اگر سب برے کاموں کو نہ چھوڑا جائے تو محض فاقہ بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ قربانی کے بارے میں اللہ تعالی کو قربانیوں کا خون اور گوشت ہر گز نہیں پہنچتا بلکہ اسے تو تمہاری طرف سے تقوی پہنچتا ہے ۔ (یعنی دو جذبہ اور خلوص جس کے تحت قربانی کی جائے ) (انج (37) 2.5 نظام اخلاق کی بنیاد اسلامی نظام اخلاق میں عدل و انصاف صبر و شکر اور معاف کرنے بیسی جتنی اچھی عادتیں ہیں ان سب کی بنیاد بھی تقوی ہے۔ مثلا عدل و انصاف کے حکم ساتھ فرمایا ترجمہ: عدل کرو یہ تقوی سے قریب تر ہے۔ (المائدہ (8)صبر کے بارے میں آتا ہے : ترجمہ: "صبر اور تقوی اختیار کردو تو یہ بڑی ہمت کی بات ہے" (آل عمران : 186) 2.6 بڑائی کا معیار ہمارے دین کی نظر میں سب انسان برابر ہیں امیر غریب گورے کالے سب اللہ تعالی کے نزدیک ایک ہیں۔ لیکن اسلام میں تقویٰ کو بڑائی کا معیار بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے : اللہ کے ہاں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ۔ (الحجرات: 13) 2.7 تقوی کے فوائد تقوی سے انسان کو بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں : -1 -2 آقوی سے اللہ تعالی کی محبت حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالی صرف پر ہیز گاروں کی عبادتیں قبول کرتا ہے۔ 3 تقوی اختیار کرنے سے قرآن پاک کی ہدایت و رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ -4 تقوی اختیار کرنے سے گناہ دھل جاتے ہیں۔ -5 پر ہیز گار بندوں کو آخرت میں کوئی خوف اور رنج نہیں ہو گا۔مشغله: اپنے بزرگوں میں سے کسی پر ہیز گار بزرگ کی عادتوں کا بغور جائزہ لیں ۔ اور پھر ان میں موجود اچھی عادتیں اپنے الفاظ میں لکھیں۔