4- امانت داری سچائی کے بعد بہترین صفت امانت داری ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو بعثت سے پہلے حرب کے لوگ صادق اور امین کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ امین امانت دار کو کہتے ہیں " اس کا مطلب ہے دوسروں کی امانتیں رکھنے والا ۔ امانت کئی قسم کی ہوتی ہے۔ عام طور پر ہم اس سے صرف مال و دولت مراد لیتے ہیں لیکن دوسروں کے راز آپس کی خفیہ باتیں اور کسی محفل میں ہونے والی گفتگو سب اس میں شامل ہیں۔ اگر کوئی کسی سے مشورے کی خاطر بات کرے تو جہاں تک ہو سکے اسے درست مشور دیا جائے اور اس کی بات اپنے تک رکھنی چاہیے۔ اس طرح کسی محفل میں جو باتیں ہوتی ہیں اگر وہاں دوسروں سے متعلق کوئی بات ہو تو اسے لوگوں میں پھیلا نا بری بات ہے۔ اس سے کئی دفعہ آپس میں ناراضگی اور رنجش پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طرحاگر کوئی کسی کے ہاں ملازم ہے تو جن شرائط پر وہ کام کرتا ہے ان کا پورا خیال رکھنا چاہیے ایسا نہ کرنا بھی امانت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں امانت داری کا حکم دیا ہے فرمایا: " بے شک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کے حوالے کیا کرو۔ )58 : النساء( قرآن پاک میں ایمان داروں کی نشانی بتائی گئی کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی حفاظت کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے نجات کی خوشخبری سنائی۔ اور خیانت کرنے سے منع فرمایا کیونکہ امانت میں خیانت کرنا منافقت کی نشانی ہے۔ہمارے رسول ﷺ اس حد تک امانت دار تھے کہ جب مکہ معظمہ میں کافروں نے آپ ﷺ کا رہنا مشکل کر دیا اور آپ ﷺ کو مجبورا مدینہ منورہ ہجرت کرنا پڑی اس وقت بھی انیس کافروں کی امانتیں آپ ﷺ کے پاس پڑی تھیں ۔ آپ ﷺ نے حضرت علی ، کو تاکید فرمائی کہ تم صبح کو لوگوں کی جو امانتیں میرے پاس پڑی ہیں ان کے مالکوں کو لوٹا کر مدینہ منورہ آجانا۔ اس واقعے سے آپ ﷺ کی امانت داری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مشغله ہم اپنے معاشرے میں امانت داری کے حکم پر کیسے عمل کر سکتے ہیں ؟ مختصر الفاظ میں بیان کریں۔"