| Arabic | Urdu | English |
|---|---|---|
وَلَا تَقْرَبُوا | نہ جاؤ | Do not approach |
مَالَ الْيَتِيمِ | یتیم کا مال | نہ جاؤ |
إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ | مگر جس طرح بہتر ہو | except in the best way |
حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ | جب تک وہ جوان نہ ہو جائے | until he reaches maturity |
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ | اور عہد پورا کرو | And fulfill every covenant |
إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولاً | بے شک عہد کی پوچھ ہو گی | Surely, the covenant will be questioned |
ترجمہ: اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر جس طرح کہ بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو۔ بے شک عہد کی پوچھ کچھ ہو گی۔
Translation: Do not go near the wealth of the orphan except in the best manner, until he reaches maturity. And fulfill your promises, for surely promises will be asked about.
اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ یتیم کے مال اور جائیداد کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا حرام ہے۔ اگر یتیم نا بالغ ہے اور آپ اس کے ہمدرد ہیں اور اس کے مال و جائیداد کو اس کے فائدے اور بہتری کے کام میں لاتے ہیں، مثلا کسی کاروبار میں لگا کر مکمل نگرانی اور امانت کو پیش نظر رکھتے ہیں تو اس کی اجازت ہے۔ جب وہ بڑے ہو جائیں اور انہیں کام کی سمجھ بوجھ ہو جائے تو ان کا مال و جائیداد منافع سمیت ان کے حوالے کر دو۔
دوسری اہم بات عہد کے بارے میں ہے کہ عہد کی پابندی کرو اور اگر کسی سے کوئی قول کوئی معاملہ لے پا جائے تو اس کو ضرور پورا کرو کیوں کہ قیامت کے روز تمام قول و قرار یعنی عہد کی پوچھ ہو گی لہذا کوشش کریں کہ عہد کو ہر حال میں پورا کریں ۔ البتہ اگر کسی نے کسی غلط کام کا عہد کر لیا ہو یا کسی سے نہ بولنے کی قسم کھالی تو ایسے عہد اور قسم کو توڑ دینا ضروری ہے اور ساتھ ہی قسم کا کفارہ بھی دینا ضروری ہے۔
In this verse, Muslims are guided that using the wealth or property of orphans for personal benefit is forbidden. If the orphan is a minor and you are their guardian, it is allowed to invest their wealth for their benefit under strict honesty and care. Once the orphan grows up and understands business matters, their wealth along with any profit must be returned to them.
Another important point is about promises. Always fulfill your promises, because on the Day of Judgment, every agreement and promise will be questioned. However, if someone has made a wrong or sinful promise, it must be broken, and an expiation (kaffarah) must be given for breaking such an oath.